ابنا: محمد مصطفی الدابی نے جن کی سرپرستی میں عرب لیگ کی نگران کمیٹی نے شام کے حالات کے بارے میں رپورٹ پیش کی ہے کہا کہ ان کی کمیٹی نےشام کے پندرہ علاقوں کے حالات کے بارے میں رپورٹ پیش کی ہے اور ان کی کمیٹی نے جودیکھا وہی پیش کیا ہے۔ الدابی نے کہا کہ ان کی کمیٹی میں اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، تیونس، الجزائر، عراق، سعودی عرب، کویت، قطر، مصر، مراکش اور موریتانیا کے مبصر شامل ہیں۔
انہوں نے قطر کی جانب سے نگراں کمیٹی کو ناتجربہ کار قراردیۓ جانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نگران کمیٹی نے کسی طرح کی غلطی نہیں کی ہے اور اپنی ذمہ داری بھر پور طرح سے انجام دی ہے۔ یاد رہے عرب لیگ کی نگران کمیٹی کے کامیاب مشن کو عرب لیگ نے اپنے نقصان میں دیکھ کر اس کی رپورٹ مسترد کردی ہے اور اسے غلط اطلاعات پر مبنی رپورٹ قراردیا ہے۔
عرب لیگ نے اس کے علاوہ نگران کمیٹی کے سربراہ کی حقیقت پسندانہ اور شفاف رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اتوار کے اپنے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کرکے کہا ہے کہ شام صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرواکر قومی اتحاد کی حکومت قائم کرے۔ شام کے خلاف عرب ليگ کی اس قرارداد کے بعد شام کی سیاسی اور مذہبی شخصیتوں نے قومی یکجہتی کانفرنس میں شرکت کرکے عرب لیگ کی قرارداد کی مذمت کی۔
شام کی شخصیتوں کی اس کانفرنس کے اختتامی بیان میں کہا گيا ہے کہ شرکاء کانفرنس عرب لیگ کے بیان اور شام میں بیرونی ممالک کی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کانفرنس کے اختتامی بیان میں کہا گيا ہےکہ موجودہ بحران کی راہ حل قومی مذاکرات ہیں اور شام کے باشندے اپنے ملک کی ترقی اور پیشرفت کےلئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائيں گے۔
ادھر قاہرہ میں شام کے سفیر اور عرب ليگ میں شام کے نمائندے یوسف احمد نے کہا ہےکہ شام عرب لیگ کی قراردادوں کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ قراردادیں شام اور عرب لیگ کے مابین طے شدہ معاہدے سے ماورا ہیں۔ شام کے اخبار تشرین نے سعودی عرب اور قطر کو شام کے بحران کو بین الاقوامی سطح پرپیش کرنے کا ذمہ دار قراردیا۔ اس اخبار نے لکھا ہے کہ ان ملکوں کو شام کے خلاف ان اقدامات میں شکست ہوکررہے گی ۔
تشرین اخبار کے ایڈیٹر ان چیف نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو شام کے خلاف سازشوں میں شکست ہوئي ہے اور وہ اپنے اھداف تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ عرب لیگ کی نگراں کمیٹی کی کوششیں شام میں قومی اتحاد پر منتج ہونگي۔
رامین مہمان پرست نے گذشتہ شب شام کے بارے میں عرب ليگ کی نگران کمیٹی کی رپورٹ کو متوازن اور مثبت قراردیتےہوئے اس امید کا ا ظہار کیا ہے کہ یہ رپورٹ شام میں قومی مفاہمت اور اتحاد کا سبب بنے گي۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام ملکوں کی ارضی سالمیت پر تاکید کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ شام کے بحران کو حل کرنے کی مناسب ترین راہ قومی سطح کے مذاکرات ہیں جن میں تمام سیاسی گروہ شریک ہوں۔........ /169